11 ستمبر 2026 - 17:32
ایرانی پارلیمنٹ کے سنی ارکان: عالم دین کا قتل اتحاد اور ایمان کی آواز نہیں دبا سکتا

ایران کی پارلیمنٹ کے سنی ارکان نے پیرانشہر کے گاؤں چیانہ کی مسجد کے امام جماعت ماموستا محمد نزهتی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں اور اس جرم کے منصوبہ سازوں کی فوری شناخت اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کی پارلیمنٹ کے سنی ارکان نے ایک بیان میں پیرانشہر کے گاؤں چیانہ کی مسجد کے امام جماعت ماموستا محمد نزهتی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی اور اس جرم میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ماموستا محمد نزهتی ایک عوامی عالم دین تھے، نہ ان کے پاس دولت و طاقت تھی، نہ کسی عہدے کی کشمکش تھی اور نہ ہی کوئی ہتھیار؛ ان کے پاس اللہ کا کلام اور لوگوں کی مسجد تھی۔

بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ ماموستا محمد نزهتی کا جرم کیا تھا؟ کیا وہ نماز پڑھاتے تھے، اپنے گاؤں کے لوگوں کی خدمت کرتے تھے، دین کی تعلیم دیتے اور اخلاق و امن کی دعوت دیتے تھے؟ یا کچھ عناصر اتحاد، یکجہتی اور قومی شناخت کی آواز سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ایک عالم دین کو گولی کا نشانہ بنانا ہی اپنا جواب سمجھتے ہیں؟

سنی ارکان نے کہا کہ ماموستا محمد نزهتی ان علما میں شامل تھے جو دینی ذمہ داریوں کے ساتھ عوامی اتحاد، سماجی یکجہتی، قومی شناخت کے تحفظ اور ایران کے دفاع پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیانات میں ملک کے خلاف دشمنوں کے حملوں اور ایرانی شہریوں کی شہادت کی بھی مذمت کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر ایسے جرائم کا مقصد اتحاد، وطن دوستی اور دشمنوں کے خلاف ایرانی عوام کی مزاحمت کی آواز کو خاموش کرنا ہے تو یہ خود ان کارروائیوں کی گھناؤنی اور ملک دشمن حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سنی ارکان نے کہا کہ ایک عالم دین اور مسجد کے امام جماعت کو اپنے گھر میں، اہلیہ اور بچوں کے سامنے گولی مارنا صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ خاندان کے امن، گھر کے تقدس، مسجد کے احترام، علما کے مقام اور معاشرے کے سکون پر حملہ ہے۔

علما معاشرے میں اتحاد کی اہم کڑی ہیں

بیان میں کہا گیا کہ اہل سنت کے علاقوں میں ماموستا اور علمائے دین صرف مسجد کے امام نہیں ہوتے بلکہ وہ مشکل وقت میں لوگوں کا سہارا، اختلافات ختم کرانے والے، بچوں کے معلم، خیرخواہی کی آواز اور معاشرتی اتحاد کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

سنی ارکان کے مطابق، ایسے علما کو نشانہ بنانا عوام میں خوف پیدا کرنے، بدامنی پھیلانے، معاشرتی اعتماد کو نقصان پہنچانے اور قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی عالم دین کو قتل کرنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ قاتلوں کی بے بسی اور بے منطقی کا اعتراف ہے۔ جو شخص ایک دیہی امام جماعت کی آواز خاموش کرنے کے لیے گولی کا سہارا لیتا ہے، وہ دراصل اخلاق، انسانیت، دین کے احترام اور عوام کے امن کو نشانہ بناتا ہے۔

قاتلوں اور منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ایرانی پارلیمنٹ کے سنی ارکان نے سکیورٹی، پولیس اور عدالتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس قتل کے تمام ذمہ داروں، منصوبہ سازوں اور اس سے وابستہ عناصر کی جلد شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج بھی شفاف انداز میں عوام اور شہید کے اہل خانہ کے سامنے پیش کیے جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ علمائے دین، ائمہ جماعت اور تمام شہریوں کی جان کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کوئی سیاسی، قومی، جماعتی یا سکیورٹی جواز کسی بے گناہ انسان کے قتل کو درست قرار نہیں دے سکتا۔

سنی ارکان نے عوام، علمائے اہل سنت اور ایران کے تمام خیرخواہوں سے اپیل کی کہ وہ قاتلوں کو ایک عالم دین کے خون سے عوام کے درمیان اختلاف، نفرت اور انتشار پیدا کرنے کا موقع نہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا جواب اتحاد، گولی کا جواب قانون اور خوف پھیلانے کی کوشش کا جواب عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر دیا جائے گا۔

بیان کے آخر میں ماموستا محمد نزهتی کے اہل خانہ، علمائے اہل سنت اور چیانہ، پیرانشہر اور مغربی آذربائیجان کے عوام سے تعزیت کی گئی اور شہید عالم دین کے لیے بلند درجات جبکہ ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و اجر کی دعا کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ عالم دین کے خون کو گولی سے خاموش نہیں کیا جاسکتا؛ محراب کو خون آلود کیا جاسکتا ہے، لیکن کسی قوم کے ایمان اور اتحاد کو کبھی خاموش نہیں کیا جاسکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha